ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بلقیس کے مجرمین کو بچانے والی بی جے پی کیلئےاب اپنا چہرہ چھپا نا بھی مشکل؛ کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی اور الکا لامبا کی پریس کانفرنس

بلقیس کے مجرمین کو بچانے والی بی جے پی کیلئےاب اپنا چہرہ چھپا نا بھی مشکل؛ کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی اور الکا لامبا کی پریس کانفرنس

Tue, 09 Jan 2024 18:28:43    S.O. News Service

نئی دہلی،9/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) ایک سال ،۴؍ ماہ اور۲۳؍ دنوں کے بعد ہی سہی  بلقیس بانو کو بالآخر جزوی انصاف مل گیا ہے۔ اس معاملے کے تمام مجرمین کو دوبارہ جیل پہنچانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مرکز کی مودی حکومت  اورگجرات کی ریاستی حکومت کو جم کر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کانگریس نے اسے بی جے پی کی حکمرانی پر زور دار طمانچہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبروریزی کے مجرمین کو بچانے  والی بی جے پی کو اب اپنا چہرہ چھپانے کیلئے کوئی جگہ نہیں  مل پا رہی ہے۔ 

 کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی اور الکا لامبا نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے بعد گجرات کی بی جے پی حکومت پوری طرح سے بے نقاب ہو گئی ہے۔ اس نےآبرو ریزی کے مجرمین کو جیل میں سہولیات فراہم کیں اور انہیں بچانے کی بھی بار بار کوشش کی لیکن بالآخر سچ کی جیت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ وزیر اعظم مودی کی حکومت میں اس معاملے کو روکنے کی سیکڑوں کوششیں ہوئیں لیکن   انہوں نے اس رویے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

 ابھیشیک منو سنگھوی نے کہاکہ ’’جس طرح عصمت دری کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا گیا، اب انہیں کہیں منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی ہے۔ بی جے پی کے تمام بیانات بے نقاب ہوچکے ہیں اور بی جے پی کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے۔ جیل میں ہونے کے باوجود تمام مجرموں کو بی جے پی کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے بہت زیادہ سہولتیں دی تھیں لیکن گناہ اتنی آسانی سے نہیں مٹتا، نہ ہی اتنی آسانی سے اسے چھپایا جاسکتا ہے۔‘‘

انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے حکومت کے سامنے آئینہ رکھ کر اس کو اس کا مغرور چہرہ دکھادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ۱۸؍ اکتوبر۲۰۲۲ء کوکانگریس نے کہا تھا کہ یہ ایک بدنما داغ ہے جو آسانی سے نہیں جائے گا اور اس کا حتمی فیصلہ بھی آئے گا۔

 کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی  اور پرینکا گاندھی نے بھی بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ بی جے پی کی سوچ خواتین مخالف ہے اور انتخابی فائدے کیلئے اس کی یہ سوچ جمہوری نظام کیلئے بھی خطرناک ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’انتخابی فائدے کیلئے’انصاف کے قتل‘ کا رجحان جمہوری نظام کیلئے خطرناک ہے۔ آج سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک بار پھر ملک کو بتا دیا کہ مجرموں کاسرپرست کون ہے۔ بلقیس بانو کی انتھک جدوجہد نے مغرور بی جے پی حکومت کو دھول چاٹنے پر مجبور کردیا ہے۔‘‘ انہوں نے بلقیس کی کوششوں کو انصاف کی جیت قرار  دیا۔

 پرینکا گاندھی نے بلقیس بانو کو ملنے والے انصاف پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ’’بالآخر انصاف کی فتح ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے گجرات فسادات کے دوران اجتماعی عصمت دری کی شکار بلقیس بانو کے قصورواروں کی  رہائی کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس حکم سے بی جے پی کی خواتین مخالف پالیسیوں پر سے پردہ ہٹ گیا ہے۔ اس حکم کے بعد نظام انصاف پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو گا۔ بہادری سے اپنی لڑائی جاری رکھنے کیلئے بلقیس بانو کو مبارکباد۔‘‘

 کانگریس پارٹی نے اپنے آفیشل ٹویٹر پیج پر کہا کہ ’’بلقیس بانو کے مجرم دوبارہ جیل جائیں گے، بی جے پی حکومت نے ان مجرموں کی رہائی کروائی تھی۔ بلقیس بانو کیس میں سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تاریخی ہے۔ اس فیصلے سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کے بارے میں بی جے پی کی سوچ کتنی نفرت انگیز ہے۔‘‘ پارٹی کے سینئر لیڈر پرمود تیواری نے اس فیصلے کو بی جے پی کے منہ پر زوردار طمانچہ قرار دیا۔ انہوں نے گجرات حکومت کو برخاست کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔


Share: